79 comments:

Murad Tariq said...

"میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں کہ میں جاہلوں میں سے ہو جاؤں"
آیت 67، سورہ البقرہ

Murad Tariq said...

اے میرے رب! فساد کرنے والی قوم کے مقابلے میں میری مدد فرما " ۔"
آیت 30، سورہ العنکبوت

Murad Tariq said...
This comment has been removed by the author.
Murad Tariq said...

حقیقت خرافات میں کھو گئی
یہ امت روایات میں کھو گئی۔
"محمد اقبال"

Murad Tariq said...

تقلید کی روش سے بہتر ہے خود کشی
رستہ بھی ڈھونڈھ، خضر کا سودابھی چھوڑ دے۔
"محمد اقبال"

Murad Tariq said...
This comment has been removed by the author.
Murad Tariq said...

اسلام علیکم;
آؤ! ذرا ھم بھی سوچیں کہ "ھمارا بھی اسلام میں کوئی حصہ ھے؟
جو چیز ھم نے جتنی پسند کرلی، پس اس کو ھم نے مان لیا اور جو ھم نے پسند نہیں کی، اسے چھوڑ دیا، جتنی داڑھی پسند آئی اتنی رکھ لی، تھوڑی سی بڑی ھونے لگی تو کاٹ دی یہ ھمارا اسلام ہے۔
یہ ھمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت نہیں بلکہ یہ تو اپنی پسند ھے۔ باقی اعمال، روزے میں، نماز میں جتنا چاھا پڑھ لیا، جتنا چاھا چھوڑ دیا، جو چاھا کر لیا، جس کو چاھا چھوڑ دیا، ناں ناں اس کو اسلام نہیں کہتے، یہ ھماری اپنی پسند کی باتیں ھیں۔
عیسائی بھی اپنے دین پر ایسے ھی عمل کرتے ھیں، یہودی بھی اسی طرح کا عمل کرتے ھیں اور ان کے اسی رویہ کی وجہ سے اللہ تعالٰی نے عسائیوں، یہودیوں کو دور پھینک دیا کہ چلو تمہارا اسلام ھمیں قبول نہیں ، تم اپنی پسند کرتے ھو، تحریف کرتے ھو، دین کو بدلتے ھو، جیسے چاھے عمل کرتے ھو، جاؤ میں تم سے اسلام چھین کر امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اسلام دیتا ھوں، جو امت میری مرضی پے چلے گی۔
اللہ نے اھل کتاب کو نکال دیا اور اب ھمارا انتخاب کیا۔
آؤ میرے بھائیو! ھم اللہ کے سامنے اپنا اسلام پیش کریں، اپنا وقت، صلاحیتیں پیش کریں اپنے گھر، اپنی ھر ھر چیز کو پیش کر کے کہیں، اللہ یہ ھے میرے پاس، تیرے لئے، تو دیکھ کہ میں نے سپ کچھ تیرے لئے کیا ھے۔ اتنا اخلاص اللہ تعالٰی کے سامنے پیش کرو، اللہ کے سامنے بھی عمل کی سچائی اور وھی سچائی دنیا والوں کے سامنے، پھر دیکھو اللہ کے فضل سے دنیا میں کیسے تبدیلیاں آتی ھیں، کیسے اللہ کے دشمن گرتے ھیں کیسے اللہ کا دین چڑھتا ھے۔ جتنا ھم اپنی ذاتی زندگیوں میں اسلام کو غالب کرلیںگے تو اتنا ھی ھم اللہ کے دین کو دنیا میں غالب کرسکیں گے اور اگر ھم باتیں تو بڑی بڑی کریں لیکن اسلام پرخود عمل نہیں کریں گے تو یہ منافقت ھے، جو اللہ کو پسند نہیں۔
"اقتباس از خظباتِ قادسیہ،"
"حافظ محمد سعید"

Murad Tariq said...
This comment has been removed by the author.
Murad Tariq said...

اسلام علیکم،
میں نے کچھ لوگ ایسے بھی "غریب" دیکھے ھیں جن کے پاس دولت کے سوائے کچھ نہیں"۔"

Murad Tariq said...

اسلام علیکم
دنیا کے سب ظالم، جابر، منافق، مشرک، کافر اور ان کے ایجنٹ، حواری، گماشتے، چیلے، معاون و مددگار اور ھم خیال ان "مجاھدوں" سے خوف زدہ اور دھشت زدہ ھیں اور رھیں گے، 'جو' "اللہ" کے حکم سے ان ظالموں، جابروں، منافقوں، مشرکوں اور ان کے مددگاروں کے خلاف تا قیامت "جہاد و قتال" کرتے رھیں گے اور "جہاد و قتال" کی ترغیب دیتے رھیں گے۔

Murad Tariq said...

اللہ کے نام سے۔
اسلام علیکم۔
تم اس کی طرف دیکھو جو تم سے کم درجے پر ھے اور اس کی طرف نہ دیکھو جو بلند درجے پر ھو کہیں تم اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کو حقیر نہ سمجھنے لگو۔
حدیث 7430، جلد 3، صحیح مسلم۔

Murad Tariq said...

اللہ کے نام سے۔
اسلام علیکم۔
قرآن پڑھو، سمجھو اور عمل کرو۔
اللہ اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی اطاعت کرو۔

Murad Tariq said...

اللہ کے نام سے۔
اسلام علیکم،
"جب کوئی شخص کسی نعمت پر "الحمد للہ" کہتا ھے تو اللہ سبحان و تعالی اس کو اور بھی بہتر نعمت عطا کرتا ھے"۔
حدیث 381، ابن ماجہ

Murad Tariq said...

اللہ کے نام سے۔
اسلام علیکم،
"تعلیم جس کے دل پر اثر کرتی ھے تو وہ سادگی اختیار کرتا ھےاور جس کے اوپر سے گذر جاتی ھے وہ ماڈرن بن جاتا ھے"۔

Murad Tariq said...
This comment has been removed by the author.
Murad Tariq said...

اللہ کے نام سے۔
اسلام علیکم،
" سچ اور جھوٹ میں صرف اتنا فرق ھے کہ انسان سچ بول کر جھوٹ نہیں بولتا لیکن جھوٹ بول کر انسان کو اور بہت سے جھوٹ بولنے پڑتے ھیں"۔

Murad Tariq said...

اللہ کے نام سے۔
اسلام علیکم،
اے مسلمانو.۔.۔.۔.۔.۔.۔.۔.
غور سے سنو، سوچو اور دوسرے کان سے نکال دو ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ ؟
"فی زمانہ "انسان" کو بہکانے کا شیطان مردود کا سب سے طاقتور ذ ریعہ "موبائل فون"، کیبل ٹیلیوژن" اور "انٹر نیٹ"۔ "برائے مہربانی اگرجائز اور شدید ضرورت ھو تو انھیں استعمال کریں"
سونے پہ سہاگہ ھمارے اکثر نام نہاد علماء(جوبعثت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے یہودی علماء سے دو ھاتھ آگے ھیں) ھیں ان یہودی علماء نے تورات، انجیل وغیرہ میں تحریف وتبدیلی (اپنے مفادات کو تحفظ دینے کی غرض سے) کردی تھی اور آج کے علماء سوء قرآ ن وحدیث کے مطالب ومفاھم (اپنے مفادات کو تحفظ دینے کی غرض سے) تبدیل کر رھے ھیں"۔

Murad Tariq said...
This comment has been removed by the author.
Murad Tariq said...
This comment has been removed by the author.
Murad Tariq said...

اللہ کے نام سے۔
اسلام علیکم،
"مفہومِ حدیث"
فرمایا، "تم میں سے کوئی شخص ایماندار نہ ھوگا جب تک اپنے بھائی کے لئے وہ نہ چاہے جو اپنے نفس کے لئے چاھتا ھے"۔
حدیث 13، کتاب الایمان، جلد۔1، صحیح بخاری۔

Murad Tariq said...
This comment has been removed by the author.
Murad Tariq said...

اللہ کے نام سے۔
اسلام علیکم،
"مفہومِ حدیث"
فرمایا،
"تم میں سے کوئی شخص ایماندار نہ ھوگا جب تک اس کے والد اور اسکی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ اسکے دل میں میری محبت نہ ھوجائے"۔ (محبت طبعی اس درجہ مطلوب ھے کہ وھاں تک کسی کی بھی محبت کی رسائی نہ ھو حتیٰ کہ اپنے نفس تک کی بھی محبت نہ ھو۔)
حدیث۔15،
کتاب الایمان،
جلد۔1، صحیح بخاری۔

Murad Tariq said...

اللہ کے نام سے۔
اسلام علیکم،
"مفہومِ حدیث"
فرمایا،
"تین خصلتیں ایسی ھیں کہ جس میں یہ پیدا ھو جائیں اسنے ایمان کی مٹھاس کو پا لیا،
1۔ اللہ اور اسکا رسول اسکے نزدیک سب سے زیادہ محبوب بن جائیں۔
2۔ وہ کسی انسان سے محض اللہ کی رضا کے لئے محبت رکھے۔
3۔ یہ کہ کفر میں واپس لوٹنے کو ایسا برا جانے جیسے کہ آگ میں ڈالے جانے کو برا جانتا ھے"۔
حدیث۔16،
کتاب الایمان،
جلد۔1، صحیح بخاری۔

Murad Tariq said...

اللہ کے نام سے۔
اسلام علیکم،
"مفہومِ حدیث"
فرمایا،
"انصار سے محبت رکھنا "ایمان" کی نشانی ھے اور انصار سے کینہ رکھنا "نفاق" کی نشانی ھے"۔
حدیث۔17،
کتاب الایمان،
جلد۔1، صحیح بخاری۔

Murad Tariq said...

اللہ کے نام سے۔
اسلام علیکم،
"مفہومِ حدیث"
فرمایا،
"وہ وقت قریب ھے جب مسلمان کا سب سے عمدہ مال (اسکی) بکریاں ھوں گی جن کے پیچھے وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور برساتی وادیوں میں اپنے "دین" کو بچانے کے لئے بھاگ جائیگا"۔
حدیث۔19،
کتاب الایمان،
جلد۔1، صحیح بخاری۔

Murad Tariq said...

اللہ کے نام سے۔
اسلام علیکم،
"مفہومِ حدیث"
فرمایا،
"کیوں کہ "حیا" بھی ایمان ھی کا ایک حصہ ھے"۔
حدیث۔24،
کتاب الایمان،
جلد۔1، صحیح بخاری۔

Murad Tariq said...

اللہ کے نام سے۔
اسلام علیکم،
"مفہومِ حدیث"
فرمایا،
"مجھے "اللہ" کی طرف سے حکم دیا گیا ھے کہ لوگوں سے جنگ کروں اس وقت تک کہ وہ اس بات کا اقرار کرلیں کہ "اللہ" کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی "اللہ" علیہ وسلم "اللہ" کے سچے رسول ھیں اور نماز ادا کرنے لگیں اور زکوات دیں، جس وقت وہ یہ کرنے لگیں تو مجھ سے اپنیےجان و مال کو محفوظ کرلیں گے، سوائے اسلام کے حق کے (رھا ان کے دل کا حال تو) ان کا حساب "اللہ" کے ذمے ھے۔
حدیث 25،
جلد۔1، صحیح بخاری۔

Murad Tariq said...

اللہ کے نام سے۔
اسلام علیکم،
"مفہومِ حدیث"
رسول اللہ صلی "اللہ" علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ کونسا عمل سب سے افضل ھے؟
فرمایا،
"اللہ اور اسکے رسول پر ایمان لانا"۔
کہا گیا اسکے بعد کونسا؟
فرمایا "اللہ کی راہ میں جہاد کرنا" ۔
کہا گیا پھر کیا ھے؟
فرمایا "حج مبرور"۔
حدیث 26،
جلد۔1، صحیح بخاری۔

Murad Tariq said...

اللہ کے نام سے۔
اسلام علیکم،
"مفہومِ حدیث"
رسول اللہ صلی "اللہ" علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ کونسا اسلام بہتر ھے؟
فرمایا،
"کہ تو کھانا کھلائے اور ھر شخص کو سلام کرے خواہ تو اس کو جانتا ھو یا نہ جنتا ھو"۔
حدیث 28،
جلد۔1، صحیح بخاری۔

Murad Tariq said...

اللہ کے نام سے۔
اسلام علیکم،
"مفہومِ حدیث"
راوی۔ ابو بکرہ
آپ صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے تھے،
"جب دو مسلمان اپنی اپنی تلواریں لے کر بھڑ جائیں تو قاتل اور مقتول دونوں دوزخی ھیں"۔
میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! قاتل تو خیر(ضرور دوزخی ھونا چاھئے) مقتول کیوں؟
فرمایا، "وہ بھی اپنے ساتھی کو مار ڈالنے کی ھوس رکھتا تھا۔" (موقع پاتا تو وہ اسے ضرور قتل کر دیتا، دل کے عزم صمیم پر وہ دوزخی ھوا)"۔
حدیث 30،
جلد۔1، صحیح بخاری۔

Murad Tariq said...

اللہ کے نام سے۔
اسلام علیکم،
"مفہومِ حدیث"
راوی۔ ابو ھریرہ
فرمایا،
"منافق کی تین علامتیں ھیں۔ جب بات کرے جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے اس کے خلاف کرےاور جب اس کو امین بنایا جائے خیانت کرے"۔
حدیث 33،
جلد۔1، صحیح بخاری۔

Murad Tariq said...
This comment has been removed by the author.
Murad Tariq said...
This comment has been removed by the author.
Murad Tariq said...
This comment has been removed by the author.
Murad Tariq said...

اللہ کے نام سے۔
اسلام علیکم،
"مفہومِ حدیث"
راوی۔ ابو ھریرہ
فرمایا،
"جو شخص اللہ کی راہ میں (جہاد کے لئے) نکلا ، اللہ اس کا ضامن ھو گیا۔ (اللہ تعالی فرماتا ھے) اس کو میری ذات پر یقین اور میرے پیغمبروں کی تصدیق نے (اس سرفروشی کے لئے گھر سے) نکالا ھے (میں اس بات کا ضامن ھوں) کہ یا تو اس کو واپس کر دوں ثواب مال غنیمت کے ساتھ یا (شہید ھونے کے بعد) جنت میں داخل کردوں (رسول اللہ صلی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا) اور اگر میں اپنی امت پر (اس کام کو) دشوار نہ سمھتا تو لشکر کا ساتھ نہ چھوڑتا اور میری خواھش ھے کہ اللہ کی راہ میں مارا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر مارا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں پھر مارا جاؤں "۔
حدیث 36،
جلد۔1، صحیح بخاری۔

Murad Tariq said...

اللہ کے نام سے۔
اسلام علیکم،
"مفہومِ حدیث"
راوی۔ طلحہ بن عبید اللہ

"رسول اللہ صلی صلی اللہ علیہ و سلم سے نجد کے ایک شخص نے اسللم کے بارے میں پوچھا۔
رسول اللہ صلی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ! "اسلام دن رات میں پانچ نمازیں پڑھنا ھے"۔
اس نے کہا، بس، "اسکے سوا تو اور کوئی نماز مجھ پر نہیں"؟
رسول اللہ صلی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ! "نہیں، مگر تو نفل پڑھے (تو اور بات ھے)"۔
رسول اللہ صلی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ! "اور رمضان کے روزے رکھنا"۔
اس نے کہا، "اور تو کوئی مجھ پر روزہ نہیں"؟
رسول اللہ صلی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ! "نہیں، مگر تو نفل روزے رکھے (تو اور بات ھے)"۔
"رسول اللہ صلی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس سے زکات کا بیان فرمایا"۔
وہ کہنے لگا کہ، "بس اور کوئی صدقہ مجھ پر نہیں"؟
رسول اللہ صلی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ! "نہیں، مگر یہ کہ تو نفل صدقہ دے (تو اور بات ھے)"۔
پھر وہ شخص پیٹھ موڑ کر چلا اور یوں کہتا جاتا تھا، "قسم خدا کی نہ میں اس سے بڑھاؤں گا نہ گھٹاؤں گا"۔
رسول اللہ صلی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ! "اگر یہ سچا ھے تو اپنی مراد کو پہنچ گیا"۔

حدیث 46،
جلد۔1، صحیح بخاری۔

Murad Tariq said...

اللہ کے نام سے۔
اسلام علیکم،
"مفہومِ حدیث"
راوی۔ عائیشہ رضی اللہ عنہما
آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا،
"تم پر اتنا ھی عمل واجب ھے جتنے عمل کی تمہارے اندر طاقت ھے۔ اللہ کی قسم، ثواب دینے سے اللہ نہیں اکتاتا، مگر تم عمل کرتے کرتے اکتا جاؤ گے۔ اور اللہ کو دین کا وہی عمل پسند ہے جس کی ہمیشہ پابندی کی جاسکے اور انسان بغیر اکتائے اسے انجام دے"۔
حدیث 43،
جلد۔1، صحیح بخاری۔

Murad Tariq said...

اللہ کے نام سے۔
اسلام علیکم،
"مفہومِ حدیث"
راوی۔ ابو ھریرہ
آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا،
"جو کوئی ایمان رکھکر اور ثواب کی نیت سے کسی مسلمان کے جنازے کے ساتھ جائے اور نماز دفن سے فراغت ہونے تک اسکے ساتھ رہے تو وہ دو قیراط ثواب لیکر لوٹے گا اور ہر قیراط اتنا بڑا ہوگا جیسے احد کا پہاڑ، اور جو دفن سے پہلے لوٹ جائے تو وہ ایک قیراط ثواب لے کر لوٹے گا"۔
حدیث 47،
جلد۔1، صحیح بخاری۔

Murad Tariq said...

اللہ کے نام سے۔
اسلام علیکم،
"مفہومِ آیت 6، سورہ التحریم "
"اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ھونگے"۔

Murad Tariq said...

اللہ کے نام سے۔
اسلام علیکم،
"ابرھیم تیمی (واعظ) نے کہا میں نے اپنے گفتار اور کردار کو ملایا تو مجھکو ڈر ہوا کہ کہیں میں شریعت کو جھٹلانے والے کافروں سے نہ ہو جاؤں اور ابن ابی ملیکہ نے کہا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے تیس صحابہ سے ملا ان میں سے ہر ایک کو اپنے اوپر نفاق کا ڈر لگا ہوا تھا ان میں سے کوئی یوں نہ کہتا تھا کہ میرا ایمان جبرائیل و میکائیل جیسا ھے اور حسن بصری سے منقول ہے نفاق سے وہی ڈرتا ہے جو ایمان دار ہوتا ہے اور اس سے وہی نڈر ہوتا ہے جو منافق ہوتا ہے"۔
جلد۔1، صحیح بخاری۔

Murad Tariq said...

اللہ کے نام سے۔
اسلام علیکم،
"مفہومِ حدیث"
راوی۔ معاویہ رضی اللہ عنہ
آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا،
"جس شخص کے ساتھ اللہ تعالٰی بھلائی کا ارادہ کرے اسے دین کی سمجھ عنایت فرما دیتے ہیں اور میں تو محض تقسیم کرنے والا ہوں دینے والا تو اللہ ہی ہے اور یہ امت ہمیشہ اللہ کے حکم پر قائم رہے گی اور جو شخص ان کی مخالفت کرے گا انہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا یہاں تک کہ اللہ کا حکم (قیامت) آجائے (اور یہ عالم فنا ہو جائے)"۔
حدیث 71،
جلد۔1، صحیح بخاری۔

Murad Tariq said...

اللہ کے نام سے۔
اسلام علیکم،
"مفہومِ حدیث"
راوی۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ
آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا،
حسد صرف دو باتوں میں جائز ہے۔ ایک تو اس شخص کے بارے میں جسے اللہ نے دولت دی ہو اور وہ اس دولت کو راہِ حق میں خرچ کرنے پر بھی قدرت رکھتا ہو اور ایک اس شخص کے بارے میں جسے اللہ نے حکمت (کی دولت) سے نوازا ہو اور وہ اس کے ذریعے سے فیصلہ کرتا ہو اور (لوگوں کو) اس حکمت کی تعلیم دیتا ہو"۔
حدیث 73،
جلد۔1، صحیح بخاری۔

Murad Tariq said...

اللہ کے نام سے۔
اسلام علیکم،
"مفہومِ حدیث"
راوی۔ ابنِ عباس رضی اللہ عنہ
ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھے سینے سے لگایا اور دعا دیتے ہوئے فرمایا کہ "اے اللہ اسے علمِ کتاب (قرآن) عطا فرمائیو"۔
حدیث 75،
جلد۔1، صحیح بخاری۔

Murad Tariq said...

اللہ کے نام سے۔
اسلام علیکم،
"مفہومِ حدیث"
راوی۔ اُنس رضی اللہ عنہ
آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا۔ علاماتِ قیامت میں سے یہ ھے کہ (دینی) عِلم اُٹھ جائے گا اور جہل ہی جہل ظاہر ہو جائے گا اور (اعلانیہ) شراب پی جائیگی اور زنا پھیل جائیگا"۔
حدیث 80،
جلد۔1، صحیح بخاری۔

Murad Tariq said...

اللہ کے نام سے۔
اسلام علیکم،
"مفہومِ حدیث"
راوی۔ اُنس رضی اللہ عنہ
آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا۔ علاماتِ قیامت میں سے یہ ھے کہ عِلمِ (دین) کم ہو جائے گا۔ جہل ظاہر ہو جائے گا۔ زِنا بکثرت ہوگا۔ عورتیں بڑھ جائیں گی اور مرد کم ہو جائیں گے۔ حتٰی کہ 50 عورتوں کا نگراں صرف ایک مرد رہ جائیگا"۔
حدیث 81،
جلد۔1، صحیح بخاری۔

Murad Tariq said...

اللہ کے نام سے۔
اسلام علیکم،
"مفہومِ حدیث"
راوی۔ ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ
آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ (ایک وقت ایسا آئیگا کہ جب) عِلم اُٹھا لیا جائے گا۔ جہالت اور فتنے پھیل جائیں گے اور ہرج بڑھ جائیگا۔
پوچھا گیا ہرج سے کیا مراد ہے؟
آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے ہاتھ کو حرکت دے کر فرمایا اس طرح ، گویا آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس سے قتل مراد لیا"۔
حدیث 85،
جلد۔1، صحیح بخاری۔

Murad Tariq said...

اللہ کے نام سے۔
اسلام علیکم،
"مفہومِ حدیث"
راوی۔ ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ
آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ "اے لوگو ! تم ایسی شدت اِختیار کرکے لوگوں کو دین سے نفرت دلانے لگے ہو۔ سن لو جو شخص لوگوں کو نماز پڑھائے تو وہ ہلکی پڑھائے، کیوں کہ ان میں بیمار، کمزور اور حاجت والے سبھی لوگ ہوتے ہیں"۔
حدیث 90،
جلد۔1، صحیح بخاری۔

Murad Tariq said...

اللہ کے نام سے۔
اسلام علیکم،
"مفہومِ حدیث"
راوی۔ زید بن خالد الجہنی رضی اللہ عنہ
ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے پڑی/ملی ہوئی چیز کے بارے میں دریافت کیا۔
آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ "اسکے بندھن پہچان لے یا فرمایا کہ اسکا برتن یا تھیلی پہچان لے پھر ایک سال تک اسکی شناخت کا اعلان کراؤ پھر اسکا مالک نہ ملے تو اس سے فائدہ اٹھاؤ اور اگر اسکا مالک آجائے تو اسے سونپ دو"۔
اس نے پوچھا گمشدہ اونٹ کے بارے میں کیا حکم ہے؟
آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ "تجھے اونٹ سے کیا واسطہ؟ اسکے ساتھ خود اسکی مشک ہے اور اسکے پاؤں کے سم ہیں وہ خود پانی پر پہنچے گا اور خود پی لے گا اور خود درخت پر چرے گا۔ لِِہٰذہ اسے چھوڑ دو یہاں تک کہ اسکا مالک مِل جائے"۔
اس نے پوچھا گمشدہ بکری کے بارے میں کیا حکم ہے؟
آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ " وہ تیری ہے یا تیرے بھائی کی ورنہ بھیڑئیے کی غذا ہے"۔
حدیث 91،
جلد۔1، صحیح بخاری۔

Murad Tariq said...

اللہ کے نام سے۔
اسلام علیکم،
"مفہومِ حدیث"
راوی۔ عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ
آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ "اللہ علم کو اس طرح نہیں اٹھا لیگا کہ اسکو بندوں سے چھین لیگا ۔ بلکہ وہ پختہ کار عالموں کو موت دے کر علم کو اٹھائے گا۔ حتٰی کہ جب کوئی عالم باقی نہ رہیگا تو لوگ جاہلوں کو سردار بنا لیں گے، ان سے سوالات کئے جائیں گے اور وہ بغیر علم کے جواب دیں گے۔ اس لئے خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔
حدیث 100،
جلد۔1، صحیح بخاری۔

Murad Tariq said...

اللہ کے نام سے۔
اسلام علیکم،
"مفہومِ حدیث"
راوی۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ۔
عورتوں نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے کہا کہ "آپ صلی اللہ علیہ و سلم سےفائدہ اٹھانے میں مرد ہم سے آگے بڑھ گئے ہیں، اس لئے آپ اپنی طرف سے ہمارے وعظ کے لئے بھی کوئی دن خاص فرما دیں"۔ تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے ایک دن کا وعدہ فرما لیا۔ اس دن عورتوں سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ملاقات کی اور انہیں وعظ فرمایا اور مناسب احکام سنائے۔ ان سے یہ بھی کہا کہ جو کوئی عورت تم میں سے اپنے تین لڑکے آگے بھیج دے گی تو وہ اس کے لئے دوزخ سے پناہ بن جائیں گے۔ اس پر ایک عورت نے کہا، اگر دو بچے بھیج دے؟
آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا، ہاں! اور دو کا بھی یہ حکم ہے۔"
حدیث 101،
جلد۔1، صحیح بخاری۔

Murad Tariq said...
This comment has been removed by the author.
Murad Tariq said...

اللہ کے نام سے۔
اسلام علیکم،
"مفہومِ حدیث"
راوی۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ
ایک یہودی نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا،
اے ابوالقاسم، روح کیا چیز ہی؟
آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے خاموشی اختیار فرمائی، میں نے (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے) دل میں نے کہا کہ آپ پر وحی آ رہی ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے وہ کیفیت دور ہوگئی تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے قرآن کی یہ آیت جو اُس وقت نازل ہوئی تھی تلاوت فرمائی!
"(اے نبی صلی اللہ علیہ و سلم)! تم سے یہ لوگ روح کے بارے میں پوچھ رہے ھیں۔ کہدو کہ روح میرے رب کے حکم سے ہے۔ اور تمہیں علم کا بہت تھوڑا حصہ دیا گیا ہے" اس لئے تم روح کی حقیقت نہیں سمجھ سکتے۔
حدیث 125،
جلد۔1، صحیح بخاری۔

Murad Tariq said...

اللہ کے نام سے۔
اسلام علیکم،
"مفہومِ حدیث"
راوی۔ ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ
آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ "میری امت کے لوگ وضو کے نشانات کی وجہ سے قیامت کے دن سفید پیشانی اور سفید ہاتھ پاؤں والوں کی شکل میں بلائے جائیں گے۔ تو تم میں سے جو کوئی اپنی چمک بڑھانا چاہتا ہے تو بڑھا لے(یعنی وضو اچھی طرح کرے)"۔
حدیث 136،
جلد۔1، صحیح بخاری۔

Murad Tariq said...

"سورہ الماعون"
اللہ کے نام سے۔
کیا تو نے اسے بھی دیکھا جو روزِ جزا کو جھٹلاتا ھے۔
یہی وہ ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے۔
اور مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا۔
اُن نمازیوں کے لئے ویل نامی جہنم کی جگہ ہے۔
جو اپنی نماز سے غافل ہیں۔
جو ریا کار ہیں۔
اور برتنے (عام استعمال) کی چیز روکتے ہیں۔

Murad Tariq said...

"سورہ العصر"
اللہ کے نام سے۔
"زمانے کی قسم۔
بیشک و بلیقین انسان نقصان میں ہے۔
سوائے اُن لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے اور جنہوں نے آپس میں حق کی وصیت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی"۔

Murad Tariq said...
This comment has been removed by the author.
Murad Tariq said...

اللہ کے نام سے۔
"طالبِ علم اور طالبِ دنیا"
(تفسیرِ آیات 6 - 12، سورہ العلق)
"فرماتا ہے کہ انسان کے پاس جہاں دو پیسے ہوئے، ذرا فارغ البال ہوا کہ اُس کے دل میں کبر و غرور، عجب و خود پسندی آئی، اُسے ڈرتے رہنا چاہئے خیال رکھنا چاہئےکہ اُسے ایک دن اللہ کی طرف لوٹنا ہے،وہاں، جہاں اور حساب ہونگے، مال کی بابت بھی سوال ہوگا کہ لایا کہاں سے اور خرچ کہاں کیا؟
۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، دو لالچی ایسے ہیں کہ جنکا پیٹ ہی نہیں بھرتا، ایک طالبِ علم اور دوسرا طالبِ دنیا۔ ان دونوں میں بڑا فرق ہے۔ علم کا طالب اللہ کی رضامندی حاصل کرنے میں بڑہتا رہتا ہے اور دنیا کا لالچی سرکشی اور خود پسندی میں بڑہتا رہتا ہے پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی جس میں دنیا داروں کا ذکر ہے، پھر طالبِ علموں کے فضیلت کی یہ آیت تلاوت کی "انما یَخشی اللہ من عبادہِ العُلمآءُ" یہ حدیث مرفوعاََ یعنی نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے فرمان سے بھی مروی ہے کہ دو لالچی ہیں جو شکم پُر نہیں ہوتے طالبِ علم اور طالبِ دنیا، اسکے بعد کی آیتیں ابو جہل ملعون کے بارے میں نازل ہوئی ہیں کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو بیت اللہ میں نماز پڑہنے سے روکتا تھاپس پہلے تو اسے بہترین طریقے سے سمجھایا گیا کہ جنہیں تو روکتا ہے یہی اگر سیدھی راہ پر ہوں، انہی کی باتیں تقوی کا حکم کرتی ہوں پھر تو اگر انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرے اور بیت اللہ سے روکے تو تیری بدقسمتی کی انتہا ہےکہ نہیں؟ کیا یہ روکنے والا جو نہ صرف خود حق کی رہنمائی سے محروم ہے بلکہ راہِ حق سے روکنے کے در پے ہے اتنا بھی نہیں جانتا کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے اسکا کلام سن رہا ہے اور اسکے کلام اور کام پر اسے سزا دیگا، اس طرح سمجھا چُکنے کے بعد اب ڈرا رہا ہے کہ اگر اس نے اپنی مخالفت، سرکشی اور ایذا رسانی نہ چھوڑی تو "ھم" بھی اُسکی پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے، جو اقوال میں کاذب اور افعال میںخطا کار ہے یہ اپنے مدد گاروں، ہمنشینوں، قرابت داروں اور کنبے قبیلے کو بلا لے، دیکھیں کون اُسکی مدافعت کر سکتا ہے "ھم" بھی اپنے عذاب کے فرشتوں کو بلالیتے ہیں پھر ہر ایک کو کُھل جائیگا کہ کون جیتا کون ہارا؟"۔

Murad Tariq said...

اللہ کے نام سے۔
اسلام علیکم،
اے ھمارے رب! "ھم نے اپنے اوپر ظلم کیا اور اگر تو نے ھم سے درگُذر نہ کیا اور ھم پر رحم نہ فرمایا تو یقیناََ ھم خسارہ پانے والوں میں سے ھو جائیں گے"۔
سورہ الاعراف 23۔

Murad Tariq said...

اَللہ کے نام سے۔

(تفسیرِ آیات 38 - 41، سورہ النازعات)

"اُس دِن سَرکَشی کرنے والے اور دُنیا کو دِین پَر تَرجیح دینے والوں کا ٹِھکانا جَہنم ھوگا، اُنکی خوراک "زقوم" ھوگا اور اُنکا پانی "حمیم" ھوگا، ھاں، ھمارے سامنے کھڑے ھونے سے ڈرتے رھنے والوں اور اپنے آپ کو نَفسانی خواھشوں سے بچاتے رھنے والوں، خوفِ خُدا دل میں رکھنے والوں اور بُرائیوں سے بَعض رھنے والوں کا ٹِھکانا جَنت ھے اور وھاں کی کُل نِعمتوں کا حِصہ دار صِرف یہی ھے"۔

Murad Tariq said...
This comment has been removed by the author.
Murad Tariq said...

اَللہ کے نام سے۔

(تفسیرِ آیات 42 - 46، سورہ النازعات)

"قیامت کے بارے میں "تم" سے سوال ھو رھے ھیں، "تم" کہہ دو کہ نہ مجھے اِسکا علم ھے نہ مخلوق میں سے کِسی اور کو، صرف اللہ ھی جانتا ھے کہ قیامت کب آئیگی۔ اِس کا صحیح وقت کسی کو معلوم نہیں، وہ زمین و آسمان پر بھاری پڑ رھی ھے حالانکہ دراصل اِسکا علم سوائے اللہ کے اور کسی کو نہیں، جبرائیل علیہ سلام بھی جس وقت انسانی صورت میں آپ کے پاس آئے اور کچھ سوالات کئے جن کے جوابات آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے دئے پھر یہی قیامت کے دن کی تعین کا سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا، جس سے پوچھتے ھو نہ وہ اسے جانے نہ خود پوچھنے والے کو اس کا علم ھے۔ پھر فرمایا کہ اے نبی تم تو صرف لوگوں کے ڈرانے والے ھو اور اس سے نفع انھیں کو پہنچے گا جو اس خوفناک دن کاڈر رکھتے ھیں، وہ تیاری کر لیں گے اور اس دن کے خطرے سے بچ جائیں گے باقی لوگ جو ھیں وہ آپ کے فرمان سے عبرت حاصل نہ کریں گے بلکہ مخالفت کریں گے اور اس دن بدترین نقصان اور مہلک عذابوں میں مبتلا ھوں گے، لوگ جب اپنی اپنی قبروں سے اُٹھکر محشر کے میدان میں جمع ھوں گے اُس وقت اپنی دنیا کی زندگی اُنھیں بہت ھی کم نظر آئیگی اور ایسا معلوم ھوگا کہ صرف صبح کا یا شام کا کچھ حصہ دنیا میں گذارا ھے۔ ظہر سے لے کر غروبِ آفتاب تک کے وقت کو "عشیہ" کہتے ھیں اور سورج طلوع ھونے سے لے کر آدھے دن تک کے وقت کو "ضحٰی" کہتے ھیں، مطلب یہ کہ آخِرت کو دیکھکر دنیا کی لمبی عمر بھی اتنی کم محسوس ھونے لگے گی"۔

Murad Tariq said...

اسلام علیکم،

اللہ کے نام سے۔

اللہ تعالٰی، سورہ البقرہ کی آیت 2 تا 7 میں فرماتے ھیں! "یہ اللہ کی کتاب (قرآن) ھے۔ بیشک! یہ (قرآن) ھدایت ھے اُن پرھیزگاروں کے لئے، جو غیب (وہ حقائق جو انسان کے حواس سے پوشیدہ ھیں اور کبھی براہِ راست عام انسانوں کے مشاھدے میں نھیں آتے) پر آیمان لاتے ھیں، نماز قائم کرتے ھیں، جو رزق "ھم (اللہ)" نے اُن کو دیا ھے اُس میں سے خرچ کرتے ھیں، جو کتاب (قرآن) "تم (محمد صلی اللہ علیہ و سلم) " پر نازل کی گئی ھے اور جو کتابیں "تم (محمد صلی اللہ علیہ و سلم)" سے پہلے نازل کی گئیں اُن سب پر ایمان لاتے ھیں اور آخرت پر یقین رکھتے ھیں۔ ایسے لوگ ھی راہِ راست پر ھیں اور وھی فلاح پانے والے ھیں"۔
"جن لوگوں نے (اِن باتوں کو تسلیم کرنے سے) اِنکار کردیا، اُن کے لئے یکساں ھے، خواہ "تم (محمد صلی اللہ علیہ و سلم)" اُنھیں خبردار کرو یا نہ کرو، بہرحال وہ ماننے والے نہیں ھیں۔ اللہ نے ان کے دلوں اور کانوں پر مُھر لگادی ھے اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑگیا ھے۔ وہ سخت سزا کے مُستَحِق ھیں"۔

Murad Tariq said...

اسلام علیکم،

اللہ کے نام سے۔

اللہ تعالٰی، سورہ البقرہ کی آیت 8 اور 9 میں فرماتے ھیں! "بعض لوگ ایسے بھی ھیں جو کہتے ھیں کہ ہم اللہ اور آخرت پر ایمان لائے ھیں، حالانکہ، در حقیقت وہ مومن نھیں ھیں۔ وہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے ساتھ دھوکہ بازی کر رھے ھیں، مگر ، دراصل وہ خود اپنے آپ ھی کو دھوکے میں ڈال رھے ھیں اور انھیں اس کا شعور نھیں ھے"۔

Murad Tariq said...

"صدقہِ جاریہ"

اسلام علیکم،
اللہ کے نام سے۔
سورہ البقرہ کی آیت 16 تا 18 کا مفہوم!
"یہ وہ لوگ ھیں جنہوں نے گمراھی کو ھدایت کے بدلے میں مول لے لیا ھے پس نہ تو اِن کی تجارت نے انکو فائدہ پہنچایا اور نہ یہ ھدایت والے ھوئے۔ انکی مثال اس شخص کی سی ھے جس نے آگ جلائی پس آس پاس کی چیزیں روشنی میں آئی ھی تھیں، اللہ انکے نور کو لے گیا اور انھیں اندھیروں میں چھوڑ دیا۔ جو نھیں دیکھتے، بہرے، گونگے، اندھے ھیں پس وہ نھیں لوٹتے"۔
"تفسیر"
اِبنِ عباس اِبنِ مسعود اور بعض دیگر صحابہ رضوان اللہ علیہم سے مروی ھے، انھوں نےھدایت چھوڑدی اور گمراھی خرید لی۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ھیں، انھوں نے ایمان کے بدلے کُفر قبول کیا مجاھد رضی اللہ عنہ فرماتے ھیں، ایمان لائے پھر کافر ھوگئے۔ قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ھیں، ھدایت پر گمراھی کو پسند کرتے ھیں۔ جیسے اور جگہ قومِ ثمود کے بارے میں ھے، "وَ اَمَّا ثَمُودُ فَھَدَینٰھم فَاستَحَبَّو ۔ ۔ ۔ عَلَی الھُدٰی" یعنی باوجود اِسکے کہ ھم نے قومِ ثَمود کو ھدایت سے روشناس کردیا مگر پھر بھی انھوں نے اس رھنمائی کی جگہ اندھے پن کو پسند کیا"۔ مطلب یہ ھوا کہ منافقین ھدایت سے ھٹ کر گمراھی پر آگئے اور ھدایت کے بدلے گمراھی خریدلی۔ اب ایمان لاکر پھر کافر ھوئے ھوں، خواہ سرے سے ایمان ھی نصیب نہ ھوا ھو۔ چنانچہ قرآن میں ھے "ذٰلِکَ بِاَنَّھُم اٰمَنُو ۔ ۔ ۔ عَلٰی قُلُوبِھِم" یہ اِس لئے ھے کہ یہ لوگ اِیمان لاکر پھر کافر ھوگئے پس انکے دلوں پر مُھر لگا دی گئی اور ایسے بھی منافق تھے جنھیں ایمان نصیب ھی نھیں ھوا۔ جو منافق گمراھی کو ھدایت کے بدلے اور اندھے پن کو بینائی کے بدلے مول لیتے ھیں، انکی مثال اس شخص جیسی ھے، جس نے اندھیرے میں آگ جلائی، اسکے دائیں بائیں کی چیزیں اسے نظر آنے لگیں ، اسکی پریشانی دور ھوگئی اور فائدے کی اُمید بندھی کہ دَفعَتاً آگ بجھ گئی اور سخت اندھیرا چھا گیا۔ نہ تو نگاہ کام کر سکے نہ راستہ معلوم ھو سکے اور باوجود اسکے کہ وہ شخص خود بہرا ھو، کسی کی بات کو نہ سن سکتا ھو ، گونگا ھو، کسی سے دریافت نہ کرسکتا ھو، اندھا ھو جو روشنی سے کام نہ چلا سکتا ھو، اب بھلا یہ راہ کیسے پا سکے گا؟ ٹھیک اسی طرح منافق بھی ھیں کہ ھدایت چھوڑ راہ گُم کر بیٹھے اوربھلائی چھوڑ برائی کو چاھنے لگے۔ اس مثال سے پتہ چلتا ھے کہ ان لوگوں نے ایمان قبول کرکے کُفر کیا تھا۔ اولاً تو ان منافقوں کو نورِ اِیمان حاصل ھوا۔ پھر انکے نفاق کی وجہ سے وہ چِھن گیا اور یہ حیرت میں پڑگئے اور دین گم ھو جانے کی حیرت سے بڑی اور کیا حیرت ھوگی۔

"صدقہِ جاریہ"

Murad Tariq said...

"صدقہِ جاریہ"

اسلام علیکم،
اللہ کے نام سے۔
سورہ البقرہ کی آیت 21۔22 کا مفہوم!
" اے لوگو! اپنے اُس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے کے سب لوگوں کو پیدا کیا، یہی تمہارا بچاؤ ھے۔ جسنے تمہارے لئے زمین کو بچھونا بنایا اور آسمان کو چھت اور آسمان سے پانی اُتار کر اس سے پھل پیدا کر کے تمہیں رزق دیا، خبردار باوجود جاننے کے شرک نہ کرو"۔

" اللہ کے چاھنے والوں کی ریت یہ پرانی ھے،
"سیف اللہ" ھاتھوں میں ھو اور مشرکوں کے سر قلم کرنا "

Murad Tariq said...

"صدقہِ جاریہ"
اسلام علیکم،
اللہ کے نام سے۔
سورہ البقرہ کی آیت 34 کا مفہوم!
" اور جب ھم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو ابلیس کے سوا سب نے سجدہ کیا۔ اسنے انکر کیا اور تکبر کیا اور وہ تھا ہی کافروں میں"۔

Murad Tariq said...

"صدقہِ جاریہ"
اسلام علیکم،
اللہ کے نام سے۔
سورہ البقرہ کی آیت 39 کا مفہوم!
" اور جو انکار کرکے ھماری آیتوں کو جھٹلائیں وہ جہنمی ھیں اور ھمیشہ اُسی میں رھیں گے"۔

Murad Tariq said...

اللہ کے نام سے۔
اسلام علیکم،
"مفہومِ حدیث"
راوی۔ ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ
آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ "اللہ تعالٰی فرماتا ھے کہ اِبنِ آدم مجھے تکلیف پہنچاتا ھے، زمانہ کو بُرا بھلا کہتا ھے، حالانکہ میں ھی زمانہ کا پیدا کرنے والا ھوں۔ میرے ھی ھاتھ میں تمام کام ھیں، میں جس طرح چاہتا ھوں رات اور دن کو پھیرتا رھتا ھوں"۔
حدیث 7494، جلد۔۔8، صحیح بخاری۔
"صدقہِ جاریہ"

Murad Tariq said...

اسلام علیکم،
"ھم نام نِہاد عاشقِ رسول صلی اللہ علیہ و سلم ھی دراصل گستاخِ رسول صلی اللہ علیہ و سلم ھیں۔ ھماری زندگی کے 99.99 فیصد معاملات و معامولات گستاخیِِ رسول صلی اللہ علیہ و سلم ھیں۔ جسکی وجہ سے غیر مسلموں کو گستاخی کی ھِمت ھورھی ھے"۔

Murad Tariq said...

اللہ کے نام سے۔
اسلام علیکم،
"مفہومِ آیت 6، سورہ التحریم "
"اے مومنو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ھونگے"۔

Murad Tariq said...

اسلام علیکم،
تفسیر اِبنِ کثیر صفحہ 186،
"حضرت وھب رح فرماتے ھیں "بیری کے سات پَتے لے کر سِل بَٹے پر کوٹ لئے جائیں اور پانی مِلا لیا جائے۔ پھر آیت الکرسی پڑھ کر اِس پر دَم کر دیا جائے اور جس پر جادو کیا گیا ھے، اُسے تین گھونٹ پِلا دیا جائے اور باقی پانی سے غُسل کر دیا جائے۔ اِنشاء اللہ جادو کا اثر جاتا رھے گا، یہ عمل خصوصیت سے اُس شخص کے لئے بُہت ھی اچھا ھے جو اپنی بیوی سے روک دیا گیا ھو، جادو کو دور کرنے اور اُس کے اثر کوزائل کرنے کے لئے سب سے اعلٰی چیز سورہِ الفلق اور سورہِ الناس ھیں۔ حدیث میں ھے کہ اِن جیسا کوئی تعویذ نھیں۔ اِسی طرح آیت الکُرسی بھی شیطان کو دَفع کرنے میں اعلٰی درجہ کی چیز ھے"۔

Murad Tariq said...

اللہ کے نام سے۔
اسلام علیکم،
مفہوم و تفسیر،
آیت 09 تا 13، الاعلٰی،
"مفہوم"
" تُو تو نَصیحت کرتا رہ اگر نَصیحت کُچھ فائدہ دے۔ ڈَرنے والے تو عِبرَت حاصل کر لیں گے۔ ھاں یہ بَدبَخت لوگ اِس سے دور رہ جائیں گے۔ جو بڑی آگ میں جائیں گے۔ جہاں پھر وہ نہ مریں گے نہ جِئیں گے۔"
صفحہ 716۔
تفسیر
" اے نَبی! تُو نَصیحت کرتا رِہ اگر نَصیحت فائدہ دے۔ اِس سے معلوم ھوا کہ نالائقوں کو نہ سِکھانا چاھیئے جیسے کہ حضرت علی کَرم اللہ وَجہہ فَرماتے ھیں کہ ' اگر تُم دوسروں کے ساتھ وہ باتیں کَرو گے جو اُن کی عقل میں نہ آسکیں تو نتیجہ یہ ھوگا کہ وہ تُمھاری بھلی باتیں اُن کے لِئے بُری بَن جائیں گی اور باعثِ فتنہ ھو جائیں گی، بَلکہ لوگوں سے اُن کی سمجھ کے مُطابق بات چیت کرو تاکہ لوگ اللہ اور رَسول کو نہ جُھٹلائیں '۔
پِھر فَرمایا کہ
' اس سے نَصیحت وہ حاصِل کرے گا جس کے دِل میں اللہ کا خوف ھے، جو اُس کی مُلاقات پے یَقین رَکھتا ھے اور اِس سے وہ عِبرت و نَصیحت حاصِل نَھیں کَر سَکتا جو بَدبَخت ھو جو جَہنَّم میں جانے والا ھو، جہاں نہ تو راحت کی زِندگی ھے نہ بَھلی موت، بَلکہ وہ دائمی عَذاب اور ھَمیشگی کی بُرائی ھے، اس میں طَرح طَرح کے عَذاب اور بَد تَرین سَزائیں ھیں۔
مَسنَدِ احمد میں ھے کہ ' جو اصلی جَہنَّمی ھیں اُنھیں نہ تو موت آئے نہ کارآمد زِندگی مِلے، ھاں جِن کے ساتھ اللہ کا اِرادہ رِحمت کا ھے وہ آگ میں گِرتے ھی جَل کر مر جائیں گے، پھر سِفارشی لوگ جائیں گے اور اُن کے ڈھیر چھڑا لائیں گے پِھر نِہرِ حَیات میں ڈال دِیئے جائیں گے، جَنَّتی نِہروں کا پانی اُن پَر ڈالا جائے گا اور اِس طَرح جِی اُٹھیں گے جِس طَرح دانا نالی کے کِنارے کُوڑے پر اُگ آتا ھے کہ پہلے سَبز ھوتا ہے پِھر زرد پِھر ھَرا۔ قُرآن میں اور جَگہ پَر ھے ' لَا یُقضٰی عَلَیھِم فَیَمُوتُو ' یَعنی ' نہ تو اُنھیں موت آئے گی نہ عذاب کم ھوں گے'۔
صفحہ 716،
تفسیر اِبنِ کثیر،
حافظ عماد الدین ابوالفداء اِبنِ کثیر۔

Murad Tariq said...

اللہ کے نام سے۔

اسلام علیکم،

" بچوں کو کِن کَلِمَات کے ساتھ پَنَاہ دِی جَائے ۔ "

رَسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم حَسن و حُسین رَضِی اللہ عَنھُمَا کو اِن کَلِمَات کے ساتھ اللہ تعالٰی کی پَناہ دِیَا کَرتَے تھے۔

" اُعِیذُ کُمَا بِکَلِمَاتِ اللہِ التّآمَّتہِ مِن کُلِّ شَیطَانٍ وَّ ھَآمَّتہٍ وَّ مِن کُلِ عَینٍ لَّآمَّتہٍ ۔ "
( 3371، صَحِیح بُخاَرِی۔ )
" میں تُم دونوں کو ھَر شَیطَان اور زِھرِیلے جَانوَر سے اور ھَر لَگ جَانے وَالِی نَظَر سے اللہ تَعَالٰی کی پَنَاہ میں دیتا ھوں۔ "

Murad Tariq said...

اللہ کے نام سے۔

اسلام علیکم،

" مَیَّت کو قَبر میں داخِل کَرتے وَقت دُعَا ۔ "

" بِسمِ اللہِ وَ عَلٰی سُنَّتہِ رَسُولِ اللہِ ۔ "
( 314، اَبُو دَاؤد۔ مَسنَدِ اِحمَد کے اَلفَاظ یہ ھیں ' بِسمِ اللہِ وَ عَلٰی مِلَّتہِ رَسُولِ اللہِ '۔ ' اللہ تَعَالٰی کے نَام کے سَاتھ اور رَسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی مِلَّت پَر ' )

" اللہ تَعَالٰی کے نَام کے سَاتھ اور رَسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی سُنَّت پَر ( تُمہیں قَبر میں دَاخِل کَرتا ھوں)۔ "

Murad Tariq said...

اللہ کے نام سے۔

اسلام علیکم،

" لفظ غیب کے لُغوی معنٰی کا تقاضا ھے کہ وہ بَغیر کسی کے بَتلائے اَزخود معلوم ھو جانے کا نام ھے اور یہ صِرف اللہ پاک ھی کی ایک صِفتِ خاصہ ھے کہ وہ ماضی، حال و مُستقبِل کی جُملہ غیبی خبریں اَزخود جانتا ھے۔ اُس کے سِوا مَخلوق میں سے کسی بھی اِنسان یا فَرِشتے کے لئے ایسا عقیدہ رَکھنا سَراسَر نادانی ھے خاص طور پر نَبیوں اور رَسولوں کی شان عام اِنسانوں سے بہت بُلند و بالا ھوتی ھے۔ وہ بَراہِ راست اللہ سے شرفِ خِطاب حاصِل کرتے ھیں، وَحی اور اِلہام کے ذریعے بُہت سی اَگلی پِچھلی باتیں اُن پَر واضِح ھو جاتی ھیں مگر اُن کو غیب سے تعبیر کرنا اُن لوگوں کا کام ھے جِن کو عقل و فہم کا کوئی ذرہ بھی نصیب نہیں ھُوا ھے اور جو محض اَندھی عقیدت کےپَرَستار بَن کر اِسلام فہمی سے قطعاً کورے ھو چُکے ھیں۔ رَسولِ کَریم صلی اللہ علیہ و سلم کی زِندَگی میں ھَر دو پہلو روزِ روشن کی طَرح نُمایاں نَظَر آتے ھیں ۔ کِتنی ھی دَفعہ ایسا ھوا کہ ضرورت کے تحت ایک پوشیدہ اَمر وَحیِ اِلٰہی سے آپ پَر روشن ھوگیا اور کِتنی ھی دَفعہ یہ بھی ھوا کہ ضرورت تھی بلکہ سخت ضرورت تھی مَگر وَحیِ اِلٰہی اور اِلہام نہ آنے کے باعِث آپ صلی اللہ علیہ و سلم اُن کے مُتعلِق کُچھ نہ جان سکے اور بہت سے نُقصانات سے دوچار ھونا پڑا۔ اِس لِئے قُرآنِ مَجید میں آب صلی اللہ علیہ و سلم کی زبانِ مُبارک سے اور صاف اعلان کرایا گیا " اگر میں غیب کا عِلم جانتا تو بُہت سی خیر ھی خیر جَمع کر لیتا اور مُجھ کو کوئی بُرائی نہ چُھو سکتی"۔ اگر آپ کو جنگِ اُحد کا یہ اَنجامِ بَد معلوم ھوتا تو کبھی بھی اُس گھاٹی پَر ایسے لوگوں کو مُقَرَر نہ کرتے جِن کے وَھاں سے ھَٹ جانے کی وَجہ سے کافِروں کو پَلَٹ کر وار کرنے کا موقع مِلا۔
" خُلاصہ یہ کہ عِلمِ غیب خاصہِ بَاری تعالٰی ھے۔ جو مولوی ، عالِم اِس بارے میں مُسَلمانوں کو لَڑاتے اور سَر پَھٹول کراتے رہتے ھیں وہ یقِناً اُمَّت کے غَدار ھیں۔ اِسلام کے نادان دوست ھیں۔ خود رَسُول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے سخت ترین گُستاخ ھیں۔ عِنداللہ وہ مَغضوب اور ضالین ھیں۔ بَلکہ یَہود و نَصٰرا سے بھی بَدتَر۔ اللہ ان کے شَرّ سے اُمَّت کے سادہ لوح مُسَلمانوں کو جَلد اَز جَلد نِجات بَخشے اور مُعامِلہ فہمی کی سَب کو توفیق عَطا فَرمائے۔ آمین۔
(صفحہ 580، جِلد 3، صَحیح بُخاری۔)

Murad Tariq said...

11۔
"اور جَب اُس سے کہا جَاتَا ھے کہ اللہ سے ڈَرو تو اَپنے وَقَار کا خَیَال اُس کو گنَاہ پر جَما دیتا ھے۔ ایسے شَخص کے لِئے بَس دُوزَخ ھی کَافِی ھے اور وہ بُہت بُرَا ٹِھکَانَا ھے"۔
"آیت 206، سورہ البقرہ"۔
12۔
"ان میں ایک دُوسرا گِروہ اُمّیوں کا ھے جو کِتاب کا تو عِلم نھیں رَکھتے، بَس اَپنی بے بُنِیاد اُمِیدوں اور آرزُؤں کو لِئے بیٹھے ھیں اور مِحض وھم و گُمَان پَر چَلے جَا رَھے ھیں ۔ پَس تَبَاھِی اور ھَلَاکَت ھے اُن لوگوں کے لِئے جو اَپنے ھَاتھوں سے شَرَع کا نوشتہ لِکھتے ھیں پِھر لوگوں سے کہتے ھیں کِہ یہ اللہ کے پَاس سے آیَا ھُوَا ھے تَاکِہ اس کے مُعَاوِضے میں تھوڑا سَا فَائِدَہ حَاصِل کرلیں۔ اُن کے ھَاتھوں کا یہ لِکھا بھی اُن کے لِئے تَبَاھِی کا سَامَان ھے اور اُن کی یہ کَمَائی بھی اُن کے لِئے مُوجِبِ ھَلَاکَت۔ وہ کہتے ھیں کہ دوزَخ کی آگ ھَمیں ھَرگِز چُھونے وَالِی نَھیں، الَّا یہ کہ چَند روز کی سَزَا مِل جَائے تو مِل جَائے۔ اُن سے پُوچھو، کِیا تُم نے اللہ سے کوئی عہد لے لِیَا ھے، جِس کی خِلَاف وَرزِی وہ نَہیں کَرسَکتَا یَا بَات یہ ھے کہ تُم اللہ کے ذِمّے ڈَال کَر ایسی بَاتیں کِہہ دیتے ھو جِن کے مُتَعلِق تُمھیں عِلم نَھیں ھے۔ آخِر تُمھیں دُوزَخ کِی آگ کِیوں نَہ چُھوئے گی؟ جو بِھی بَدی کَرے گا اور خَطا کَارِی کے چَکر میں پَڑَا رَھیگَا وہ دُوزَخی ھے اور دُوزَخ ھی میں ھَمیشَہ رَھیگا اور جو لوگ اِیمَان لائیں گے اور نیک عَمَل کریں گے وھی جَنَّتِی ھیں اور ھَمیشَہ جَنَّت میں رَھیں گے"۔
"آیت 78 تا 82، سورہ البقرہ"۔
13۔
اللہ تعالٰی فرماتے ھیں!
"اے نبی! اَپنی بیویوں، بیٹیوں اور مومنین کی عورتوں سے کہیں کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکالیں"۔
(سورہ الاحزاب)
اور
اللہ تعالٰی فرماتے ھیں!
"اور اپنی اُڑھنیاں اپنے گریبانوں پر ڈالیں اور اپنی زینت کسی کے سامنے ظاھر نہ کریں لیکن اپنے خاوندوں یا اپنے آباء کے سامنے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔"۔
(سورہ النور)

14۔
سورہ البقرہ کی آیت 8 تا 12 کا مفہوم! "اُنکے دِلوں میں ایک بیماری ھے جِسے اللہ نے اور بَڑھا دِیا ھے جو جھوٹ وہ بولتے ھیں اُسکے بدلے میں اُنکے لئے دردناک سزا ھے۔ جب کبھی اُنسے کہا گیا کہ زمین میں فساد نہ پھیلاؤ تو اُنھوں نے یہی کہا کہ ھم تو اِصلاح کرنے والے ھیں۔ خبردار! حقیقت میں یہی لوگ مفسد ھیں مگر انھیں شعور نھیں ھے"۔
15۔
"غَم و فِکر کی دُعا"
رَسول اللہ صَلی اللہ علیہ و سلم یہ دعا کثرت سے کِیا کرتے تھے۔
1۔ "اَللّٰھُمَّ اِنّی اَعُوذُبِکَ مِنَ الھَمِّ وَ الحُزنِ وَ العَجزِ وَ الکَسَلِ وَ الجُبنِ وَ البُخلِ وَ ضَلَعِ الدِینِ وَ غَلَبَتہِ الرِّجَالِ۔
(حدیث 6369، صحیح بخاری)
"اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ھوں، فکر اور غم سے اور عاجِز ھو جانے سے اور سُستی سے اور بُخل اور بُزدِلی سے اور قرض کے چڑھ جانے اور لوگوں کے غالِب آ جانے سے"۔ آمین۔
2۔ "اَللّٰھُمَّ اِنّی عَبدُکَ وَابنُ عَبدِکَ وَابنُ اَمَتِکَ نَاصِیَتِی بِیَدِکَ مَاضٍ فِیَّ حُکمُکَ عَدلٌ فِیَّ قَضَآ ؤُکَ اَسئَلُکَ بِکُلِ اسمٍ ھُوَ لَکَ سَمَّیتَ بِہِ نَفسَکَ اَو اَنزَلتَہُ فِی کِتَابِکَ اَو عَلَّمتَہُ اَحَدًا مّن خَلقِکَ اَوِستَاثَرتَ بِہِ فِی عِلمِ الغَیبِ عِندَکَ اَن تجعَلَ القُراٰنَ رَبِیعَ قَلبِی وَ نُورَ صَدرِی وَ جَلَآءَ حُزنِی وَذَھَابَ ھَمِّی۔ (391، مَسنَدِ اِحمَد)
"اے اللہ! میں تیرا بَندہ، تیرے بَندے کا بیٹا اور تیری بَندی کا بیٹا ھوں، میری پیشانی تیرے ھاتھ میں ھے، تیرا حُکم مجھ میں جاری ھے، میرے بارے میں تیرا فیصلہ عدل ھے، میں تجھ سے تیرے ھر خاص نام کے ساتھ سوال کرتا ھوں جو تُو نے خُود اپنا نام رکھا ھے یا اُسے اپنی کتاب میں نازِل کِیا ھے یا اپنی مَخلوق میں سے کسی کو سِکھلایا ھے یا عِلمُ الغَیب میں اسے اپنے پاس رکھنے کو ترجیح دی ھے کہ تُو قُرآن کو میرے دِل کی بَہار اور میرے سینے کا نور اور میرے غم کو دور کرنے والا اور میرے فِکر کو لے جانے والا بَنا دے"۔ آمین۔
"صدقہِ جاریہ"

Murad Tariq said...


اللہ کے نام سے۔
اسَّلامُ عَلَیکُم،
" دُنیا میں اَکثَر لوگ ایسے ھیں کہ اَگر تُو اُن کے کہے پَر چَلے تو وہ تُجھے راہِ اللہ سے بَھٹکا دَیں۔ وُہ تو صِرف گُمان کے پیچھے پَڑے ھوئے ھیں اور اَٹکَل پچو باتیں ھی بَناتے ھیں۔ تیرا "رَبَّ" ھی اُنھیں بَخوبی جانتا ھے جواُس کی راہ سے بَھٹکے ھوئے ھیں۔ جو راہِ راست پَر ھیں اُنھیں بھی وہ خوب جانتا ھے "۔
"آیت 117، سورہ الاِنعام"

" لوگو! تُمہارے پاس تُمہارے " رَبَّ " کی طَرَف سے دَلِیلیں آچکی، اَب جو دیکھے وہ اُس کا اَپنا ہِی نَفَع ھے اور جواَندھَا ھو جائے اُس کا وَبال اُسی پَر ھے، میں تُم پَر کوئی مُحافِظ تو نھیں۔ "ھَم" تو اِسی طَرَح سے نِشانیاں بَیان کَر دیتے ھیں تاکہ وہ بِھی قائِل ھو جائیں کہ تُونے پَڑھ سُنایا اور اِس لِئے بھی کہ ھَم اِسے عِلم والوں کے لِئے وَاضِح کَر دیں "۔
"آیت 104-105، سورہ الاِنعام"

"میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں کہ میں جاہلوں میں سے ہو جاؤں"
آیت 67، سورہ البقرہ

" مَفہُوم، آیَّت 115، سُورَہ النِسَآء"
" جَو شَخص رَسُول (صَلی اللہ عَلَیہِ وَ سَلَّم) کی مُخَالِفَت پَر کَمَر بَستَہ ھو اور اِھلِ اِیمَان کی رَوِش کے سِوَا کِسی اور رَوِش پَر چَلَے جَب کہ اُس پَر رَاہِ رَاست وَاضِح ھو چُکِی ھو، تو ھَم اُس کو اُسی طَرَف چَلَائیں گے جِدَھر وہ خُود پِھر گیا اور اُسے جَہَنَّم میں جھونکیں گے جو بَدتَرِین جَگہ ھے" ۔
10۔
رَاوِی: اَبو ھُریرہ رَضِی اللہ عَنہُ۔
آپ صَلی اللہ علیہ و سلم نے فَرمَایا کہ
" جو شَخص ھدایت کی طرف بلاوے اُس کو ھدایت پر چلنے والوں کا ثواب بھی ملے گا اور ھدایت پر چلنے والوں کا ثواب کچھ کم نہ ھوگا اور جو شَخص گمراھی کی طرف بلاوے اُس کو گناھ پر چلنے والوں کا گناھ بھی ملے گا اور گناھ پر چلنے والوں کا گناھ کچھ کم نہ ھوگا "۔
"6804، جِلد 6، صَحِیح مُسلِم"۔
"صدقہِ جاریہ"

Murad Tariq said...

اَللہ کے نام سے۔

اًسَّلامُ عَلَیکُم،

قرآن پڑھو، سمجھو اور عمل کرو۔
اللہ اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی اطاعت کرو۔

"مفہومِ حدیث"
راوی۔ معاویہ رضی اللہ عنہ
آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا،
"جس شخص کے ساتھ اللہ تعالٰی بھلائی کا ارادہ کرے اسے دین کی سمجھ عنایت فرما دیتے ہیں اور میں تو محض تقسیم کرنے والا ہوں دینے والا تو اللہ ہی ہے اور یہ امت ہمیشہ اللہ کے حکم پر قائم رہے گی اور جو شخص ان کی مخالفت کرے گا انہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا یہاں تک کہ اللہ کا حکم (قیامت) آجائے (اور یہ عالم فنا ہو جائے)"۔
حدیث 71،
جلد۔1، صحیح بخاری۔

" پَس (یہ حَقِیقَت ھے کہ) جِسے اللہ ھِدایَت بَخشنے کا اِرادہ کَرتا ھے اُس کا سِینہ اِسلام کے لئے کھول دیتا ھے اور جِسے گُمراھی میں ڈالنے کا اِرادہ کَرتا ھے اُس کے سِینَہ کو تَنگ کَر دیتا ھے اور ایسا بِھینچتا ھے کہ اُسے یُوں مَعلُوم ھونے لَگتا ھے کہ گویا اُس کی رُوح آسمان کی طَرَف پَرواز کَر رَھی ھے۔ اِس طَرَح اللہ (حَق سے فَرار اور نَفرَت کی) ناپَاکی اُن پَر مُسَلَّط کَر دَیتا ھےجو اِیمان نَھیں لاتے "۔
"آیت 125، سورہ الاِنعام"

"مفہومِ آیت 6، سورہ التحریم "
"اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ھونگے"۔
اے مسلمانو.۔.۔.۔.۔.۔.۔.۔.
"فی زمانہ "انسان" کو بہکانے کا شیطان مردود کا سب سے طاقتور ذ ریعہ "موبائل فون"، کیبل ٹیلیوژن" اور "انٹر نیٹ"۔ "برائے مہربانی اگرجائز اور شدید ضرورت ھو تو انھیں استعمال کریں"

" اَکثَر لوگ صِرف اَپنی خُوَاہِشوں کی بِنا پَر بَغَیر عِلم کے دُوسرُوں کو بِہکاتے رِہتے ھیں۔ ھَر ایک حَد سے تَجاوز کَرنے والے کو اللہ خُوب جانتا ھے۔ کُھلے چُھپے ھَر قِسم کے گُناہ چُھوڑ دو۔ گُناہ کَرنے والے کو اُس کے گُناھوں کی سَزا یَقِیناً دِی جائے گی "۔
"آیت 120، سورہ الاِنعام"

Murad Tariq said...

"صدقہِ جاریہ"
اللہ کے نام سے۔
اسلام علیکم،
"جو تُم میں سے کوئی بُرائی دیکھے تو اُسے اپنے ھاتھ سے روکے۔ اگر طاقت نہیں تو زبان سے (منع کرے) اور اگر اِسکی بھی طاقت نہیں تو دِل سے (بُرا جانے) اور یہ کمزور ترین اِیمان ھے"۔ (صحیح مسلم)

2. "جس قوم میں گُناھوں کا اِرتِکاب ھو رھا ھو اور ان میں اسے روکنے کی طاقت رکھنے والے بھی موجود ھوں، پھر بھی نہ روکیں تو قریب ھے کہ اللہ تعالٰی اُن سب کو اپنی طرف سے عذاب میں مُبتلا کردے"۔ (سنن اَبی داؤد)

3. اللہ کے نام سے۔
سورہ البقرہ کی آیت 39 کا مفہوم!
" اور جو انکار کرکے ھماری آیتوں کو جھٹلائیں وہ جہنمی ھیں اور ھمیشہ اُسی میں رھیں گے"۔

4. اللہ کے نام سے۔
سورہ البقرہ کی آیت 34 کا مفہوم!
" اور جب ھم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو ابلیس کے سوا سب نے سجدہ کیا۔ اسنے انکر کیا اور تکبر کیا اور وہ تھا ہی کافروں میں"۔

5. اللہ کے نام سے۔
سورہ البقرہ کی آیت 8 تا 12 کا مفہوم! "اُنکے دِلوں میں ایک بیماری ھے جِسے اللہ نے اور بَڑھا دِیا ھے جو جھوٹ وہ بولتے ھیں اُسکے بدلے میں اُنکے لئے دردناک سزا ھے۔ جب کبھی اُنسے کہا گیا کہ زمین میں فساد نہ پھیلاؤ تو اُنھوں نے یہی کہا کہ ھم تو اِصلاح کرنے والے ھیں۔ خبردار! حقیقت میں یہی لوگ مفسد ھیں مگر انھیں شعور نھیں ھے"۔

6. "مفہومِ حدیث"
فرمایا، "تم میں سے کوئی شخص ایماندار نہ ھوگا جب تک اپنے بھائی کے لئے وہ نہ چاہے جو اپنے نفس کے لئے چاھتا ھے"۔
حدیث 13،
کتاب الایمان،
جلد۔1، صحیح بخاری۔

Post a Comment


 
Design by Lashkar E Islam | Developed by Lashkar E Islam - E-mail | Lashkar E Islam