Saturday, 9 February 2013

جماعةالدعوة اور تحریک آزادی جموں کشمیر کی طرف سے بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ کے مبینہ ملزم کشمیری افضل گورو کی پھانسی کے خلاف پریس کلب کے باہر زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں طلبائ، وکلائ، تاجروں، سول سوسائٹی اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پرافضل گورو کے حق میں اور بھارت کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔شرکاءنے ہاتھوں میں پلے کارڈز، کتبے اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر افضل گورو تحریک آزادی کشمیر کا ہیروہے، افضل گورو کو پھانسی پوری کشمیری قوم پر حملہ ہے، کشمیریوں سے رشتہ کیالاالہ الااللہ اور سب سے بڑی نام نہاد سیکولرریاست کا چہرہ بے نقاب جیسی تحریریں درج تھیں۔اس موقع پر بھارتی پرچم بھی نذر آتش کیا گیا۔احتجاجی مظاہرہ سے تحریک آزادی جموں کشمیر کے سیکرٹری جنرل اور جماعةالدعوة سیاسی امور کے کوآرڈینیٹر حافظ خالد ولید، متحدہ طلباءمحاذ کے صدر اور المحمدیہ سٹوڈنٹس کے امیر انجینئر محمد حارث ڈار، علی عمران شاہین، ثاقب مجید ،محمد احسن و دیگر نے خطاب کیا۔ تحریک آزادی جموں کشمیر کے سیکرٹری جنرل اور جماعةالدعوة سیاسی امور کے کوآرڈینیٹر حافظ خالد ولیدنے اپنے خطاب میں کہاکہ بھارتی عدلیہ کشمیریوں کے معاملہ میں انتہائی جانبداری سے کام لے رہی ہے۔ کشمیریوں کے حق میں اٹھنے والی ہر آواز کو دبانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ایک طرف مقبوضہ کشمیر میں بغیر کسی جرم کے جیلوں میں بند حریت رہنماﺅں اور کارکنان کوتاحیات عمر قید کی سزائیں سنائی جارہی ہیں تو دوسری طرف افضل گورو کو بھارت میں پارلیمنٹ پر حملہ کے جھوٹے مقدمہ میں گرفتار کر کے اپنی صفائی کا موقع دیے بغیر پھانسی دے دی گئی ہے جس سے بھارت کا مذموم چہر ایک بار پھر کھل کر دنیا کے سامنے بے نقاب ہو گیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ایک متنازعہ مسئلہ ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کشمیر کی آزادی کے لئے عملی طور پرجدوجہد جاری رکھنے والے سیاسی یا جنگی قیدی کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کے خلاف فوجداری قوانین کے تحت مقدمات چلانا یا انھیں تاحیات عمر قید یا پھانسی کی سزائیں سنانا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔متحدہ طلباءمحاذ کے صدر اور المحمدیہ سٹوڈنٹس کے امیر انجینئر محمد حارث ڈار،علی عمران شاہین، ثاقب مجید ،محمد احسن و دیگر نے کہاکہ افضل گورو کوئی جرائم پیشہ شخص نہیں بلکہ وہ کشمیریوں کی تحریک آزادی کا ایک زبردست ہیروہے جس نے اپنے قومی کاز کے لئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ پوری کشمیری وپاکستانی قوم افضل گورو سے محبت اور ان کا احترام کرتی ہے۔ انہیں پھانسی کے پھندے پر لٹکانا پوری کشمیری قوم پر حملہ ہے۔ اس عمل کو کسی طور منصفانہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔مقررین نے کہاکہ افضل گورو کے خلاف نہ تو کھلی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا اور نہ ہی انہیں ٹرائل کے دوران وکیل کی خدمات میسر کی گئیں بلکہ محض پولیس کی تیار کی گئی کہانی کی بنیاد پر انھیں مجرم قراردےکر پھانسی دے دی گئی ہے۔انہوںنے کہاکہ افضل گورو کو پھانسی دینے سے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کمزور نہیں بلکہ اور زیادہ مضبوط ہو گی۔اس طرح کی حرکتوں سے مظلوم کشمیریوں کی آواز کو نہیں دبایا جاسکتا۔تحریک آزادی کشمیر جاری ہے اور جاری رہے گی۔ کشمیریوں کی ہر ممکن و مددحمایت کی جائے گی انہیں کسی صورت تنہا نہیں چھوڑا جائے گا

0 comments:

Post a Comment


 
Design by Lashkar E Islam | Developed by Lashkar E Islam - E-mail | Lashkar E Islam